اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق عبداللہ الشملاوی نے ہفتے کے روز اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھا ہے کہ صرف جمعیت الوفاق کے سربراہ شیخ علی سلمان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ انھوں نے اس ملاقات کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ واضح رہےکہ جمعیت الوفاق کے سربراہ شیخ علی سلمان کو گذشتہ سال اٹھائیس دسمبر کو ملک میں گڑبڑ پھیلانے اور لوگوں کو اشتعال دلانے نیز آل خلیفہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے جیسے الزامات کے تحت سیکورٹی فورسز نے حراست میں لیا ہے۔ شیخ علی سلمان کی گرفتاری کے بعد اندرون و بیرون ملک، وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور بحرین کے علمائے کرام سمیت مختلف ملکوں کی اہم شخصیات نے آل خلیفہ حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے شیخ علی سلمان کو فوری طور پر رہا کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ شیخ علی سلمان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ بحرین میں اصلات چاہتے ہیں۔ بحرین میں جب سے عوامی انقلاب شروع ہوا ہے آل خلیفہ حکومت نے عوامی انقلاب کو پسپا کرنے کیلئے نہ صرف بحرین کی سیکورٹی فورس بلکہ سعودی عرب کی فوج بھی وسیع پیمانے پر تشدد سے کام لے کر بحرینی عوام کے انقلاب کو ناکام بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ بحرین کے عوامی اور انقلابی حلقوں کی جانب سے خاندانی آمریت کے خلاف بحرینی عوام کے پرامن احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲